ہم یوسفِ زماں تھے ابھی کل کی بات ہے ۔
ہم یوسفِ زماں تھے ابھی کل کی بات ہے
تم ہم پہ مہرباں تھے ابھی کل کی بات ہے
وہ دن بھی تھے کہ ہم ہی تمہاری زباں پہ تھے
موضوعِ داستاں تھے ابھی کل کی بات ہے
اے کاروں انقلاب وگل تم کو ہو
ہم میر کارواں تھے ابھی کل کی بات ہے
جن دوستوں کی آج کمی ہے حیات میں
وہ اپنے درمیاں تھے ابھی کل کی بات ہے
کچھ حادثوں سے گھِر گیا ہوں محسن زمین پر
ہم رشکِ آسماں تھے ابھی کل کی بات ہے
محسن نقوی
20 Nov 2025ہمسفر سائیٹ کا بلاگ کے لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔